‫حج کے لیے 1.497 ملین حجاج کرام کی سعودی عرب آمد

جدہ، سعودی عرب، 26 اگست 2017ء/پی آرنیوزوائر/–

مملکت کل دو ملین بین الاقوامی حجاج کرام کے خیرمقدم کی توقع کر رہی ہے

سعودی عرب اب تک 1.497 ملین حجاج کو خوش آمدید کہہ چکا ہے جو 30 اگست 2017ء سے شروع ہونے والے سالانہ اسلامی رکن حج کی تیاری کے لیے ملک میں پہنچ چکے ہیں۔https://prnewswire2-a.akamaihd.net/p/1893751/sp/189375100/thumbnail/entry_id/1_vg69y3mp/def_height/400/def_width/400/version/100011/type/1

(تصویر : http://mma.prnewswire.com/media/549175/Great_Mosque_of_Makkah_Pilgrims.jpg)(تصویر: http://mma.prnewswire.com/media/549176/Great_Mosque_of_Makkah.jpg )
(تصویر: http://mma.prnewswire.com/media/549177/Holy_City_of_Makkah.jpg )

دنیا بھرسے کل دو ملین افراد کی مکہ، سعودی عرب کے مقدس شہر میں آمد متوقع ہے، جو اسے سب سے بڑا سالانہ اجتماع بناتی ہے، اور جو کئی مسلمانوں کے لیے ان کی روحانی زندگی کی سب سے نمایاں جھلک ہے۔

اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک، مکے کا سالانہ حج، جسمانی و مالی طور پر اہل مسلمانوں کے لیے زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ کرنا فرض ہے۔ اس کے اراکین کا مقصد روح کو پاک کرنا اور تمام مسلمانوں کے لیے خدا کے حضور برابری اور اتحاد کو ظاہر کرتا ہے۔

حج کے انتظامات کی ذمہ داری سعودی عرب کی حکومت پر ہوتی ہے، جو خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کی براہ راست نگرانی میں ہوتے ہیں؛ اور 4 ستمبر 2017ء کو حج کے اختتام تک ایک بہت بڑا انتظامی ذمہ داری ہے۔https://prnewswire2-a.akamaihd.net/p/1893751/sp/189375100/thumbnail/entry_id/1_tx481lsl/def_height/400/def_width/400/version/100011/type/1

بین الاقوامی حجاج حج 2017ء کے لیے بدستور سفر میں

گزشتہ چند سالوں میں غیر ملکی حجاج کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، 1941ء میں صرف 24,000 سے 2016ء میں 1.325 ملین تک۔ سعودی عرب میں مقیم مقامی حجاج سمیت گزشتہ سال کل 1.86 ملین مسلمانوں نے فریضہ حج ادا کیا۔

80 سے زیادہ ممالک

سعودی حکام حجاج کرام کی بڑی تعداد کی آمد کے لیے تیار ہیں، جن میں سے کئی دوسرے مقدس ترین شہر مدینہ بھی جاتے ہیں۔ میدان عمل میں موجود حج کی ٹیم ملنے والے حجاج کی ضروریات کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے درجن سے زیادہ زبانیں جانتی ہے۔https://prnewswire2-a.akamaihd.net/p/1893751/sp/189375100/thumbnail/entry_id/1_dpf4rc3c/def_height/400/def_width/400/version/100011/type/1

منی ٰ میں عظیم خیمہ شہر

منیٰ  کو خیموں کا شہر بھی کہا جاتا ہے جہاں ان حجاج کرام کی اکثریت کی عارضی رہائش گاہوں کے طور پر لاکھوں ایئر کنڈیشنڈ خیمے نصب ہیں، جو رواں سال  حج کریں گے۔ منیٰ جبل عرفات اور مکہ کی مسجد حرام کے درمیان واقع ہے۔ یہ خیمے بہت خوبی سے قطاروں میں لگائے گئے ہیں اور قومیت کے مطابق نمبروں اور رنگوں کے مطابق نشان زد کیے گئے ہیں۔ ہر حاجی کو مخصوص نمبر اور رنگ کا حامل بیج دیا جاتا ہے تاکہ وہ کھو جانے کی صورت میں واپس اپنے خیمے تک پہنچنے میں مدد حاصل کرے۔ آگ لگنے سے بچنے کے لیے خیموں کو ٹیفلون کوٹڈ فائبرگلاس سے تیار کیا گیا ہے اور یہ آگ بجھانے کے لیے اسپرنکلرز اور فائر ایکسٹنگوئشرز سے لیس ہیں۔

حجاج کرام کی خدمت کے لیے شہری دفاع کے 17,000 سے زیادہ اہلکاروں کی تعیناتی

حجاج کرام کو بہترین حفاظت کی ضمانت دینے کے لیے 3,000 جدید گاڑیوں کے حامل 17,000 سے زیادہ انتہائی تربیت یافتہ اہلکار کو تعینات کیا گیا ہے۔

300 گراؤنڈ ایمبولنسیں، 30 موٹر بائیکس، 113 ایمبولنس مراکز اور 8 ایئر ایمبولنسیں

سعودی ہلال احمر کے 2,000 سے زیادہ اہلکار مکہ، مدینہ اور دیگر مقدس مقامات پر تعینات ہیں جو حج کے دوران حجاج کو ایمبولنس سرو‎سزدیںگے۔

ذریعہ: وزارت ثقافت و اطلاعات، مملکت سعودی عرب

   

You May Also Like