گورکھا کے الٹرا-پریمیئم سگار ایشیا پر چھائے ہوئے

معیار اور استحکام کو نمایاں کرنے والے غیر کیوبائی سگارز کی بڑی طلب ہے

فورٹ لاڈرڈیل، فلوریڈا، 8 جون 2016ء/پی آرنیوزوائر/– جب بہت شاندار پرتعیش برانڈز اور اعلیٰ درجے کے اداروں کی بات آتی ہے تو لوئی وتوں، موئٹ ہینیسی، پیٹک فلپ، شانیل اور رولس رائس جیسے نام زبان پر آتے ہیں، لیکن جب ایشیا میں سںگاروں کے بارے میں گفتگو ہوتی ہے تو صرف ایک نام بولا جاتا ہے۔ گورکھا! دنیا کے نفیس ترین اور مستقلاً عظمت کی بلندیوں پر موجود سگاروں کے لیے ایسی مارکیٹ، جو کثرت اور معیار کو سراہتی اور تسلیم کرتی ہے، نے گورکھا کے انتہائی شاندار سگاروں کی طلب تخلیق کی ہے۔ ایشیا میں ایک کہاوت ہے، “اگر تم لکھ پتی ہو، تو تم ڈیویڈوف پیو، لیکن اگر تم ارب پتی ہو تو گورکھا پیو” اور اب گورکھا سگار فوری کامیابی کے ساتھ ایشیائی مارکیٹ میں داخل ہو چکے ہیں۔

گورکھا سگارز کے بانی اور سی ای او کیزاد ہنسوٹیا نے کہا کہ “ہم کچھ وقت سے ایشیائی مارکیٹوں میں داخل ہونے پر غور کر رہے تھے اور بالآخر یہ غوطہ مار ہی دیا۔ کئی دولت مند ایشیائی اچھی تمباکو نوشی کو فطری طور پر جانتے ہیں، وہ ہمارے سگاروں کی طرف راغب ہوتے گئے اور ہم نے فروخت میں زبردست اضافہ دیکھا۔ مزید برآں، کیونکہ ایشیائی ثقافت مہنگے عمدہ تحفے پیش کرکے قابل احترام افراد کی توقیر کرتی ہے، اس لیے گورکھا سگارز طاقتور ایشیائی کاروباری شخصیات کی جانب سے دیے جانے والے پسندیدہ ترین انتہائی شاندار تحفے بن چکے ہیں۔”

گزشتہ 10 سالوں میں غیر کیوبائی سگاروں نے ایشیا میں تمباکو کے معیار اور سگار کی بناوٹ کی وجہ سے خاصی مقبولیت حاصل کی ہے۔ اصل سگار عقیدہ مندوں نے جانا کہ کیوبا کے سگار اب ایک زبردست سگار کا معیار نہیں رہے۔

ہنسوٹیا نے کہا کہ “گورکھا، ڈیویڈوف اور فلور ڈومینیکانا جیسے سرفہرست سگار ادارے سب معروف سگار بناتے ہیں جو ہر جگہ اور ہر وقت کیوبا کے سگاروں کے سامنے ڈٹ سکتے ہیں اور ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ کیوبا کے سگار اپنے ذائقے کی بنیاد میں یک جہتی ہیں۔ ان میں بلینڈڈ سگاروں جیسی پیچیدگی و جامعیت نہیں ہے۔ اس کا تمباکو ڈومینکن جمہوریہ، نکاراگوا یا ہنڈورس جیسے دیگر مشہور مقامات کی مٹی میں پیدا نہیں ہوتا۔ کیوبا سے باہر معیار پر قابو ملک کے اندر کے مقابلے میں 10 گنا بہتر ہے۔ ہاتھ سے بنائے گئے سگار ایک فن ہیں اور انہیں بنانے والے ماہرین کی طلب بڑھے گی۔”

کیوبا کے سگاروں کے معیار پر دیگر ممالک کی وہ خواہش بھی اثر ڈال رہی ہے جو کیوبا کے کارخانوں میں کام کرنے والے معیاری کارکنوں کو زیادہ ادائیگی سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کمیونسٹ حکومت نصف صدی سے کام کرنے والوں پر اپنا اثر ڈال رہی ہے۔ اس جزیرے کی تنہائی اور اسے نظر انداز کرنے جو کبھی یہاں کی انوکھی فصل تھی اب امکانی طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ تنخواہیں اب بھی کم ہیں۔ جوش و جذبہ بھی ٹھنڈا ہے۔ مزدوروں کے حالات اب بھی برے ہیں اور افرادی قوت کو بدستور کوئی تحریک نہیں۔ کیوبا ان افواہوں سے بھی متاثر رہا ہے کہ زمین کاشت کاری کے لیے ناموزوں ہے۔ ان تمام عوامل نے ایشیا میں گورکھا کی کامیابی میں اپنا حصہ ڈالا۔ اور غیر کیوبائی سگاروں نے سگار جرنل، روب رپورٹ اور ایسکوائر جیسے جرائد کی بدولت بھی مقام حاصل کیا، جو ایشیا کے سمجھدار پیشہ ور افراد کی طرف سے پڑھے جاتے ہیں۔

گورکھا سگارز ایشیا بھر میں سگاروں کے رولس رائس کے طور پر مشہور ہیں، اس لیے حیرت کی بات نہیں کہ یہ نئی مارکیٹ میں سب سے مطلوب و پسندیدہ سگاروں میں شامل ہیں۔ گورکھا سالانہ آٹھ ملین سگار پیدا کرتا ہے جو دنیا بھر میں 58 سے زیادہ ممالک میں فروخت ہوتے ہیں۔ اور کیونکہ گورکھا اپنی خصوصیت کی وجہ سے معروف ہے، اس لیے یہ بے عیب ہاتھ سے بنے، شاندار سگاروں کے 105 برانڈز پر مشتمل ایک متاثر کن فہرست رکھتا ہے جو مختلف طاقت، ذائقے کی اقسام اور قیمت کے حامل ہیں۔ تو چاہے آپ کیسا بھی ذائقہ رکھتے ہیں ایک گورکھا سگار آپ کے مزاج کے عین مطابق ہوگا۔

گورکھا اب ہانگ کانگ، چین، تھائی لینڈ، سنگاپور، تائیوان، بھارت اور ملائیشیا میں مل سکتے ہیں جہاں ان کی قیمت اشرافیہ کی بہتری سمجھی جاتی ہے۔ “اور یہ مارکیٹ اب بھی بڑھ رہی ہے۔” ہنسوٹیا نے کہا۔

گورکھا سگارز کے بین الاقوامی صدر دفاتر جنوبی فلوریڈا میں اپنی مقررہ تنصیب سے نفیس ترین سگاروں کی ایک صدی پرانی روایت کو ناقدین کے سامنے لاتا ہے۔ گورکھا کسی بھی سگار پینے والے کے لیے لازمی ہے، اس لیے مشورہ لے لیں کہ ایک مرتبہ آپ کو دلفریب احساس اور ذائقہ رکھنے والے ان سگاروں کا لطف ضرور اٹھانا چاہیے آپ پھر دوبارہ کچھ اور پینے کا رخ نہیں کریں گے۔ یہ واقعتاً دیوتاؤں کا امرت ہے۔ گورکھا سگار 15.00 ڈالرز سے ایچ ایم آر کے ایک ڈبے کے 50,000 ڈالرز تک کی قیمتوں میں دستیاب ہیں جسے دنیا میں سب سے مہنگے سگار کہا جاتا ہے۔ 2011ء میں گورکھا کے ایک قدیم کلیکٹرز آئٹم کو اپنی نوعیت کے بہترین سگاروں کے ساتھ 868,000 ڈالرز میں فروخت کیا گیا جس نے ایک مرتبہ پھر گورکھا کو زمین کے مہنگے ترین سگاروں میں شامل کیا۔ اضافی معلومات کے لیے ملاحظہ کیجیے www.gurkhacigars.com۔

You May Also Like