حکومت صحافیوں کے تحفظ کے کے لئے قانون سازی کرے گی : صوبائی وزیر

پیشاور 17 اگست، 2016 — زیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کے مشیر برائے قانون عارف یوسف نے کہا ہے کہ حکومت صوبے کے صحافیوں کو مختلف اطراف سے ملنے والی دھمکیوں اور تحفظ کیلئے خصوصی قانونسازی کرنے کیلئے تیار ہے اگرصحافی اس حوالے سے تجاویزتیار کرکے حکومت کے حوالے کریں۔

 ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان پریس فائونڈیشن کی جانب سے منعقد تین روزہ جرنلزم اسکلزورکشاپ کے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ ورکشاپ انٹرنیشنل میڈٰا سپورٹ اور ڈینمارک سفارتخانہ اسلام آباد کے تعاون سے منعقد کی گئی جس میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے شرکت کی۔

 عارف یوسف کو کہنا تھا کہ میڈیا حکومتوں کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ بعض دفعہ حکومتی مسائل کے حل کیلئے بھی میڈٰا کا سہارا لیتے ہیں۔ حکومت کی اصلاح کیلئے میڈیا کو رول انتہائی اہم ہے اگر اس کو درست استعمال کیا جائے۔ خیبرپختونخواہ کی حکومت نے جاننے کے حق کے حوالے سے قانونسازی سے لیکر اہم اشوز پر قوانین بنائے ہیں جو پاکستان میں مثال کی حیثیت رکھتے ہیں۔ صوبائی حکومت سے میڈیا سے اچھے تعلقات  کی خواہاں ہے۔ میڈیا حکومت کی غلطیوں کی درست انداز میں نشاندہی کرے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

قبل ازیں پشاور کے صحافیوں نے کہا کہ اس وقت پشاور میں میڈٰیا کے عالمی اداروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کوسیکورٹی ایجنسیوں، طالبان سے براہ راست دباوں کا سامنا ہے۔ کئی صحافیوں کو بلاکر منع کیا جا رہا ہے کہ وہ بیرونی نشریاتی اداروں کیلئے کام نہ کریں۔ میڈیا کی جانب سے پیش کی جانے والی وضاحتیں بھی قبول نہیں کی جا رہی ہیں۔

جمیل خان نے عالمی اداروں کے نام بتائے جن کو دھمکیاں موصول ہوئی ہیں اور ان کو بلا کرکہا گیا ہے کہ بیرونی میڈیا کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دیں۔ صحافیوں کی تنظیموں کی جانب سے اس ضمن میں ابھی تک کوئی پالیسی واضح نہیں کی گئی اور نہ متعلقہ انتظامیہ سے رابطہ کیا گیا۔

صحافیوں کہنا تھا کہ ادارے صحافیوں کو مناسب تربیت نہ ہونے کی وجہ سے میڈیا میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ ڈیسک پر بیٹھے لوگ رپورٹرز سے ایسے کاموں کی توقع رکھتے ہیں جو کرنا ضروری بھی نہیں اور سینجدہ مسائل کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔

آخر میں شرکاء میں سرٹیفکیٹ تقسیم کئے گئے،،،ٹرینر قاضی آصف ،،،کوٹرینٹر ناصر حسین اور آرگنائیزر نوید عباسی تھے۔

You May Also Like