صحافیوں پرحملہ کرنااور پھرمعافی مانگنے کی روایت ختم ہونی چائیں- ورکشاپ کا مطالبہ

حیدرآباد 24 اگست: حیدرآباد کے صحافیوں نے کراچی میں میڈیا ہاوسز پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافی تنظیمیں،میڈیا ہاوسزاور حکومت مل کرمیڈیا کے تحفظ کیلئے مربوط لائحہ عمل تشکیل دیں۔ حملہ کر نقصان پہنچا کر معافی کا رواج ختم کرکے ملزموں کو قانون کے مطابق سزا دلائی جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان پریس فاونڈیشن کی جانب سے منعقدہ تین روزہ جرنلزم اسکلزورکشاپ کے دوران کیا۔ یہ ورکشاپ انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ اورڈینمارک سفارتخانہ اسلام آباد کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ اس ورکشاپ میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے شرکت کی۔

حیدرآباد یونین آف جرنلسٹس کے صدراقبال ملاح نے کہا ہے کہ میڈیا کو اپنے معیار کو مزید بہتر کرنے کیلئے اپنے ورکرز کیلئے تیکنیکی تربیت کا بندوبست کرنا پڑے گا۔ اس کے نہ ہونے کی وجہ سے صحافت کا معیار متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا ہاوسز، پریس کلبس اور صحافیوں پرحملوں نے تشویشناک صورتحال پیدا کردی ہے جس سے نکلنے کیلئے مشترکہ پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔

حیدرآباد پریس کلب کے سابق جنرل سیکریٹری منصور مری نے کہا کہ حیدرآباد پریس کلب پربھی خطرناک حملے ہو چکے ہیں۔ اس کیلئے حملہ کرنے والے معافی مانگ کرقصہ ختم کر دیتے ہیں لیکن اصل میں ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دلانے کیلئے کوششیں کرنی چاہیئں۔ کوئی بھی جماعت، میڈیا ہاوسز،پریس کلبس اور صحافیوں پر حملوں میں ملوث اپنے کارکنوں کو تحفظ دلانے کیلئے سامنے نہیں آنا چاہیئے۔ ملزمان کو قانون کے حوالے کردینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ تنظیمیں اپنے کارکنوں کا قانون کے والے کریں لیکن صحافیوں کی تنظیمیں،میڈیا ہاوسزحملوں کے بعد کوئی معافی قبول نہ کریں۔

حیدرآباد کے صحافیوں کا مزید کہنا تھا کہ حملوں کے بعد انتظامیہ بھی پریس کلبس اور صحافیوں پردباو ڈالتی ہے یا مشورہ دیتی ہے کہ مسئلہ کو بڑھائیں نہیں رفع دفع کردیں۔ اس روایت کی وجہ سے میڈیا اور صحافیوں پرحملے وقت بہ وقت جاری ہیں۔

شرکاء نے پاکستان پریس فاونڈیشن کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے صحافیوں کیلئے اسکلز تربیت کا بندوبست کیا۔ ورکشاپ کے اختتام پر شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔

You May Also Like