ماہرین صحت کی جانب سے ایشیا میں ٹائیفائیڈ وبا میں اضافے پر روشنی

خطے میں بیماری کے اضافے کی وجہ سے عالمی صحت کے رہنماؤں سے وسیع پیمانے پر حفاظتی ٹیکوں کے پھیلاؤ کی کوششیں بڑھانے کا مطالبہ

بینکاک، 13 جون 2012ء / پی آر نیوز وائر –

سابن  ویکسین انسٹی ٹیوٹ کا آغاز کردہ کوالیشن اگینسٹ ٹائیفائیڈ (سی اے ٹی) نے خطے میں مقامی ٹائیفائیڈ اور ٹائیفائڈ میں زبردست اضافے  پر گفتگو کے لیے آج پورے ایشیا سے عالمی ماہرین صحت کو بنکاک میں جمع کیا ہے۔ ماہرین نے  ان ممالک میں ٹائیفائیڈ ویکسی نیشن  کو ترجیح قرار دینے کے لیے پالیسی سازوں اور صحت کی وزارتوں کو متوجہ کیا ہے۔

سری لنکا میڈیکل کونسل کے سابق صدر اور نئی دہلی میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے جنوب مشرقی ایشیا علاقائی دفتر (سیارو) کے لیے تکنیکی مشاورتی گروپ برائے امیونائزیشن کے چیئرپرسن للیتھ مینڈس نے کہا کہ  ”  پیڈیاٹرک ایسوسی ایشنز  و دیگر ادارے خطے میں ٹائیفائڈ کے سنگین اثرات بالخصوص دواؤں کے خلاف مزاحمت کے حامل  ٹائیفائیڈ کو بڑھنے اور پھیلنے کے خطرے کو سمجھتے ہیں۔ بہت سے  ممالک– بشمول بھارت اور انڈونیشیا –  نے ٹائیفائیڈ ویکسی نیشن کے استعمال کی سفارشات کی حمایت کی ہے۔ قومی اسٹیک ہولڈرز اور پالیسی سازوں کو ٹائیفائیڈ ویکسی نیشن کو اختیار کرنے  کے بارے میں بات چیت اور شواہد کا جائزہ لینا چاہیے۔”

ڈبلیو ایچ او کی جانب سے 2009 ڈبلیو ایچ او سیارو میٹنگ میں “فوری” تعمیل کے لیے ٹائیفائیڈ ویکسین کے سفارش اور ترجیح کے باوجود ایشیا میں بہت سے ممالک کو ٹائیفائیڈ ویکسین متعارف اور تجویز کرنا باقی ہے۔

ویتنام کے قومی امیونائزیشن پروگرام کے نائب سربراہ ڈاکٹر گوین وین کونگ نے کہا کہ  “1997 سے ویتنامی  وزارت صحت زیادہ خطرات کے حامل خطوں میں ٹائیفائیڈ ویکسی نیشن کو  بیماری کو موثر انداز میں کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔چین، تھائی لینڈ اور سری لنکا میں بھی کامیاب پروگرام مکمل کیے گئے ہیں۔”

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ٹائیفائیڈ ہر سال تقریباً 21 ملین افراد کو متاثر  اور 2 لاکھ سے زائد اموات کا باعث بنتا ہے، زیادہ تر ایشیا اور افریقہ کے ترقی پذیر ممالک میں قبل از اسکول اور اسکول جانے کی عمر کے بچوں میں ہوتا ہے۔ ڈبلیو ایچ  او رپورٹ کے مطابق ایشیا میں ٖٹائیفائیڈ کے باعث اموات 90 فیصد ہیں۔

ویتنام میں آکسفورڈ یونیورسٹی کے کلینکل ریسرچ یونٹ میں ڈائریکٹر جیریمی فرار نے کہا کہ “ڈبلیو ایچ او  سے تصدیق شدہ ٹائیفائیڈ ویکسینز اب دستیاب ہیں ، تاہم ایشیا بھر میں صحت کی وزارتوں کی جانب سے ان آلات کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا گیا۔”

ٹائیفائیڈ انفیکشن اسکول میں حاضری اور کارکردگی پر اثر انداز ہوتا ہے اور افرادی قوت کی شرکت اور پیداوار کو کم کرتا ہے۔ غربت – زدہ افراد میں  صاف پانی اور حفظان صحت کے بنیادی انتظامات تک رسائی نہ ہونے  اور آلودہ پانی و غذائی اجناس کے باعث ٹائیفائیڈ بہت پھیل رہا ہے۔

نیپال کے محکمہ صحت، وزارت صحت اور آبادی کے چائلڈ ہیلتھ ڈویژن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیام راج اپریتی نے کہا کہ “نیپال میں بخار کے ساتھ اسپتال میں داخل ہونے والے بچوں، نوعمروں اور نوجوانوں کی بڑی وجہ ٹائیفائیڈ ہے۔ نیپال نے یہ ظاہر کیا ہے کہ وزارت تعلیم اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر اسکول کے بچوں کو ہدف بنا کر موثر ٹائیفائیڈ ویکسی نیشن پروگرام کامیابی سے شروع کیا جاسکتا ہے۔”

آج کے ایونٹ کا اختتام کرتے ہوئے  پینل اراکین نے پورے خطے میں بہتر نگرانی اور روک تھام کے پروگراموں کی ضرورت پر زور دیا، یہ ذکر کیا گیا کہ وسیع اثرات حاصل کرنے کے لیے ٹائیفائیڈ  ویکسی نیشن کوششیں عوامی صحت کے دیگر پروگراموں ،مثلاً پینے کے صاف پانی  تک رسائی اور حفظان صحت کی اچھی مشقوں کے فروغ بشمول ہاتھ دھونے، کے ساتھ متحد ہوکر شروع کی جانی چاہیے۔

ایشیا میں ٹائیفائیڈ بوجھ کے بارے میں مزید معلومات اور آج کے ایونٹ میں موجود مقررین کی مکمل فہرست دیکھنے کے لیے ملاحظہ کریں: http://coalitionagainsttyphoid.org/۔

کوالیشن اگینسٹ ٹائیفائیڈ (سی اے ٹی) کے بارے میں

کوالیشن اگینسٹ ٹائیفائیڈ (سی اے ٹی) سائنسدانوں اور امیونائزیشن کے ماہرین کا ایک عالمی فورم ہے جو بہت زیادہ بوجھ تلے دبی آبادیوں میں زندگیاں بچانے کے لئے میں ٹائیفائیڈ ویکسی نیشن کو آگے بڑھانے کا کام کر رہے ہیں جو دیگر معروف اتحادوں میں سے ایک ہے۔ عالمی صحت کے ایجنڈے پر ٹائیفائیڈ کو ترجیح دینے اور اس بیماری کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک جامع منصوبہ بندی تخلیق کرنے کے ذریعے ٹائیفائیڈ کے خلاف اتحاد  ان زندگی – بچانے والی ویکسینز تک رسائی کے اضافے میں بے تابی سے کام کر رہا ہے۔سی اے ٹی کے بارے میں مزید معلومات کے لیے http://www.coalitionagainsttyphoid.org/۔

سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ کے بارے میں

سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ سائنسدانوں، محققین اور حامیوں کا ایک غیر منافع بخش 501 (سی) (3) ادارہ ہے جو منطقہ حارہ کے قابل علاج اور نظر انداز کیے گئے امراض کی ویکسین کی عدم دستیابی کے باعث انسانوں کو ہونے والی پریشانیوں کو کم کرنے سے وابستہ ہیں۔ سابن دنیا بھر میں صحت کو خطرات اثر پذیر ترین خطرات میں سے چند کے لیے حل فراہم کرنے کی خاطر حکومتوں، معروف سرکاری و نجی اداروں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ 1993ء میں اورل پولیو ویکسین تیار کرنے والے ڈاکٹر البرٹ بی سابن کے نام پر قائم کیا گیا یہ ادارہ منطقہ حارہ کی قابل علاج بیماریوں کو روکنے، علاج کرنے اور خاتمے کے لیے نئی ویکسینز تیار کرنے، موجودہ ویکسینز کے استعمال کی حمایت کرنے اور سستے طبی علاج تک رسائی میں اضافے کو فروغ دینے کے لیے صف اول میں موجود ہے۔ مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کریں www.sabin.org۔

رابطہ: جوہنا ہاروے، کمیونی کیشنز آفیسر، سابن  ویکسین انسٹی ٹیوٹ: +1-202-744-5996؛ johanna.harvey@sabin.org؛ ویڈے دیپراوات، کمیونی کیشن کوآرڈینیٹر، کیو کین میڈیا: +66-2-260-9494؛ wadee.deeprawat@quo-keen.com۔

You May Also Like

Leave a Reply