پال جی ایلن نے ایبولا متاثرہ مغربی افریقہ میں فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نئی انسانی امداد کا اعلان کردیا

– امداد اہم بنیادی ضروریات اور لازمی بنیادی ڈھانچہ فراہم کرے گی؛ ایکشن اگینسٹ ہنگر، امریکیئرز اور ڈائریکٹ ریلیف ایلن کے 100 ملین ڈالرز کا حصہ وصول کریں گی

سیاٹل، 6 نومبر 2014ء/پی آرنیوزوائر — انسان دوست شخصیت پال جی ایلن نے آج مغربی افریقہ میں ایبولا کی وبا پھیلنے سے خطرے سے دوچار ہونے والوں کی بنیادی انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فوری انسانی امداد فراہم کرنے کے لیے نئی گرانٹس کا اعلان کیا ہے۔ آج سے شروع ہونے والی یہ امداد امدادی انجمنوں کو ایبولا سے متاثرہ علاقوں میں خوراک، رسد اور بچاؤ کٹ فراہم کرنا ممکن بنائے گی۔

گزشتہ مہینے جناب ایلن نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایبولا کے خلاف جنگ کے لیے اپنی وابستگی کو کم از کم 100 ملین ڈالرز تک بڑھا رہے ہیں۔ اس تازہ ترین امداد کے ذریعے، جناب ایلن کے وعدہ کردہ 100 ملین ڈالرز کا نصف سے بھی زیادہ حصہ اب ایبولا سے بچاؤ، اسے روکنے، علاج اور نمٹنے سے وابستہ منصوبوں کے لیے وقف ہوچکا ہے۔

انسانی کوششوں سے جناب ایلن کے نئے عہد میں شامل ہیں:

  • ایکشن اگینسٹ ہنگر کے لیے 1.9 ملین ڈالرز کی امداد، تاکہ وہ تنہا مریضوں کو خوراک فراہم کرے، پانی کی سبیلیں اور ہاتھ دھونے کے مقامات بنائے، ایبولا سے تحفظ کے بارے میں آگہی کو بہتر بنائے اور مقامی آبادی میں صحت کے کارکنوں کی تربیت کرے۔ اس امداد کے خصوصی نتائج میں سیرالیون میں خطرے سے دوچار برادریوں میں 20 پانی کی سبیلیں لگانا؛ لائبیریا میں 60 مقامی آبادیوں میں ہاتھ دھونے کی بیسنیں، صابن اور کلورین فراہم کرنا؛ اور لائیبیریا کی 80 برادریوں اور 60 اداروں میں معلومات کی فراہمی اور رابطے کی 1600  چیزیں پیش کرنا شامل ہیں۔
  • امریکیئرز کے لیے 1.35 کی گرانٹ کہ وہ لائبیریا کی گرانڈ باسا کاؤنٹی میں صحت کے مقامی نظام کو بہتر بنانے کے لیے کم وسائل کے حامل کلینکس کو اضافی رسد اور خدمات فراہم کرے۔ خاص طور پر یہ گرانٹ شدید متاثرہ علاقوں میں ذاتی تحفظ کے سامان کی فراہمی کی اجازت دے گی، ساتھ ساتھ مقامی کلینکس اور صحت کے مراکز کے درمیان بہتر رابطے اور صحت کے مقامی کارکنوں کے لیے ایبولا کی تربیت اور صلاحیتوں میں اضافے کو بھی ممکن بنائے گی۔ یہ کام گرانڈ باسا کے مرکز کو ایبولا علاج کے یونٹوں اور کاؤنٹی کے صحت کے نظام کو چار پڑوسی کاؤنٹیوں میں دہرانے اور اسی طریقے سے تکنیکی امداد فراہم کرنے کی اجازت دے گا۔
  • ڈائریکٹ ریلیف کے لیے 1 ملین ڈالرز کی امداد، تاکہ وہ ایبولا سے متاثرہ مغربی افریقی اقوام میں میں طبی رسد کی اپنی فراہمی کو جاری رکھ سکے اور میدان عمل میں نقل و حمل میں مدد دے۔ اب تک ڈائریکٹ ریلیف فضائی و بحری راستوں سے 140 ٹن کا طبی سامان فراہم کرچکی ہے۔

جناب ایلن کی مدد ادویات،بچاؤ رسد اور ذاتی تحفظ کے سامان کی فراہمی کے ذریعے میدان میں موجود طبی ماہرین کے تحفظ کو یقینی بنائے گی، صحت عامہ کا سامان بنانے والوں سے طبی رسدکی افریقہ تک آمد کوذرائع نقل و  حمل فراہم کرے گی اور ایبولا کے پھیلاؤ کو محدود رکھنے کے لیے طبی رسد کی موثر تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے اختتامی سروں پر ہم آہنگی سے حصولیابی اور رسد کی تقسیم کے نظام میں مدد دے گی۔ رسد چار ساتھی انجمنوں کو فراہم کی جائے گی جو لائبیریا اور سیرالیون میں 47 بنیادی صحت و ایبولا علاج کے مراکز چلا رہی ہیں۔ یہ رسد دونوں ممالک کے 500 دیہات میں صحت کے 800 مقامی کارکنوں کو مدد فراہم کریں گی اور انہیں اپنے روز مرہ کاموں کو مرض لگنے کے خوف سے بالاتر ہوکر محفوظ انداز میں کرنا ممکن بنائیں گی۔

اب تک جناب ایلن کے وعدہ کیے گئے 100 ملین ڈالرز کا نصف سے زیادہ ایبولا کے خلاف جنگ میں شامل ہوچکا ہے۔ اس امداد نے ممکن بنایا ہے:

  • مغربی افریقہ میں 60,000 حفاظتی کٹس کی فراہمی
  • مدد کے لیے 8,500 سے زیادہ افراد کی تربیت
  • تقریباً 200,000 پاؤنڈز کی رسد کی روانگی۔
  • تقریباً 250 صحت کے مراکز کی مدد۔
  • 2014ء کے اختتام تک ضروری آلات اور رسد کی فراہمی کے لیے طے شدہ بیس امدادی پروازیں۔
  • تین ہنگامی آپریشن تنصیبات زیر تعمیر اور اس میں عملہ رکھا جائے گا۔

حوصلہ بڑھاتی باتیں:

جناب ایلن نے کہا کہ “ایبولا کے اثرات اس سے متاثرہ افراد سے کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ اس کا ذیلی اثر افراد کو بنیادی انسانی ضروریات سے محروم کرنا ہے۔ یہ امداد مغربی افریقہ کے عوام کو فوری طور پر وہ علاج اور رسد حاصل کرنا ممکن بنائے گی جو انہیں اس بحران سے نکالنے کے لیے ضروری ہے۔”

ایکشن اگینسٹ ہنگر کی سی ای او اینڈریا تامبورینی نے کہا کہ ”   ایکشن اگینسٹ ہنگر سیرالیون اور لائبیریا میں ایبولا کی روک تھام کے لیے صحت اور امدادی اداروں کے قریبی تعاون سے کام کررہی ہے۔ جناب ایلن کی مدد وائرس کے بارے میں مقامی آبادیوں میں شعور اجاگر کرنے، صحت کی تنصیبات میں پانی کی حالت کو بہتر بنانے، ایبولا کے مشتبہ مریض کو شناخت کرنے اور اسے صلاح دینے کے حوالے سے صحت کے مقامی کارکنوں کی تربیت، اور ردعمل دکھانے کی صلاحیت کو بنانے  کے کام کو جاری رکھے گی۔”

امریکیئرز صدر اور سی ای او مائیکل جی نائنہوئس نے کہا کہ “اس وباء کو روکنے کا بہترین طریقہ مغربی افریقہ میں صف اول میں موجود صحت کے کارکنوں کی مدد کرنا ہے اور جناب ایلن نے اس ضمن میں حقیقی قائدانہ کردار  ادا کیا۔ فاؤنڈیشن کی امریکیئرز کو دی گئی مدد صحت کی فراہمی میں دیرپا تبدیلی فراہم کرے گی اور مریضوں اور صحت کے کارکنوں کا اعتماد بحال کرے گی۔”

ڈائریکٹ ریلیف کے سی ای او تھامس ٹائف نے کہا کہ “لائبیریا اور سیرالیون سب کے لیے صحت کی ضروری خدمات برقرار رکھ کر ڈائریکٹ ریلیف کے طویل المیعاد شراکت دار ایبولا سے نمٹنے کے لیےبہادری سے کام کررہے ہیں۔ جناب ایلن کی یہ مدد ڈائریکٹ ریلیف کی باہمی کوششوں کے لیے ضروری ہے کہ جو بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی اور فوری ضروری کی اہم رسد کو پورا کرسکے جو وائرس سے متاثرہ افراد کو روکنے اور ان کا علاج کرنے کے لیے درکار ہیں – اور یہ صحت کے وسیع تر نظام پر اپنے اثرات مرتب کرے گی۔”

جناب ایلن کی اب تک کی امداد:

وباء پھوٹنے کے ابتدائی دنوں سے جناب ایلن اور پال جی ایلن فیملی فاؤنڈیشن کی توجہ ایسے تزویراتی حلوں کی تلاش، انہیں سرمائے کی فراہمی اور ان کے ساتھ تعاون پر مرکوز تھیں جو فوری طور پر میدان میں آسکیں اور اہم ترین ضروریات کو پورا کرسکیں۔ جناب ایلن نے TackleEbola.comبھی تخلیق کی تاکہ انفرادی شخصیات کو مخصوص اداروں اور اہم ضروریات کو پورا کرنے کے لیے امداد آسان راستہ فراہم کرے۔ اب تک جناب ایلن مندرجہ ذیل حلوں کے نفاذ میں مدد کا عہد کرچکے ہیں:

  • سیرالیون اور لائبیریا میں آلات، رضاکاروں اور تعلیمی مواد کو سرمایہ دینے کے لیے امریکی صلیب احمر کے ساتھ تعاون (اگست 2014ء)
  • گلوبل گونگ کے لیے مساوی گرانٹ، جو صرف چار دنوں میں 700 سے زیادہ عطیہ دینے والوں نے برابر کردی۔ دس گروپوں نے نکاسی کی رسد کی تقسیم، تربیتی سیشنوں کے انعقاد اور عوامی آگہی کے اعلانات کے لیے امداد حاصل کی۔ (اگست 2014ء)
  • لائبیریا میں 50,000 حفاظتی کٹس ہوائی ذریعے سے فراہمی کے لیے یونیسیف کے ساتھ تعاون۔ (ستمبر 2014ء)
  • انتہائی ضروری طبی حفاظتی سامان اور ادویات کی فراہمی کے لیے مستقل راستے (ایئر برج) کی تکمیل  کے لیے ایئرلنک کے ساتھ تعاون۔ (ستمبر 2014ء)
  • سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک گنی، لائبیریا اور سیرالیون میں سی ڈی سی ایمرجنسی آپریشنز مراکز کے قیام کے لیے سی ڈی سی فاؤنڈیشن کے لیے گرانٹ۔ یہ مراکز مرض اور مریضوں سے رابطے کے کھوج کے لیے بہتر ڈیٹا مینجمنٹ اور کمیونی کیشن سسٹمز کے ذریعے باقاعدہ ردعمل میں مدد دے رہےہیں، جو آخر میں مرض کی شناخت اور اسے پھیلنے سے روکنےمیں مدد دے گا۔ (ستمبر 2014ء)
  • لائبیریا میں ایم ٹی آئی کے عملے کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے، رہائش اور نقل و حمل کے ذرائع کی فراہمی میں مدد کے لیے میڈیکل ٹیمز انٹرنیشنل (ایم ٹی آئی) کو سرمائے کی فراہمی۔ (ستمبر 2014ء)
  • گنی، لائبیریا اور سیرالیون میں موجود ایبولا ایمرجنسی پروگراموں میں مدد فراہم کرنے والے ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز/میڈیسنز ساں فرنتیرز (ایم ایس ایف) کے ساتھ شراکت داری۔ (ستمبر 2014ء)
  • متاثرہ ممالک میں عوامی آگہی اور شعور کو بڑھانے، بحران کے خلاف ردعمل دکھانے میں حکومت کی مدد اور مقامی آبادیوں میں حفظان صحت کے بہتر اصول اپنانے کے حوالے سے تعلیم و رابطے کے پروگراموں میں مدد کے لیے بی بی سی میڈیا ایکشن کے لیے گرانٹ۔  (اکتوبر 2014ء)
  • ایبولا میڈیوک فنڈ کا قیام جو طبی عملی کے اخراج کو حدود میں رکھنے کے دو یونٹوں کی امداد و تعمیر جو طبی ماہرین کو محفوظ انداز میں مغربی افریقہ سے نکالنے کے لیے استعمال ہوں گے ۔ (اکتوبر 2014ء)
  • یونیورسٹی آف میساچوسٹس کے ساتھ شراکت داری تاکہ وہ لائبیریا میں امدادی کوششوں کے لیے تربیت، طبی کارکن اور لیبارٹری کےآلات فراہم کرنے میں مدد دے سکے۔ (اکتوبر 2014ء)

مزید معلومات کے لیے  www.tackleebola.comملاحظہ کیجیے اور ٹوئٹر اور فیس بک پر @TackleEbola اور @PaulGAllen کو فالو کیجیے۔

 روابط برائے ذرائع ابلاغ:

الیکسا روڈین
ولکان انکارپوریٹڈ
206-342-2230
alexar@vulcan.com

ڈینا لینگ کیک
بورسن-مارستیلر
415-994-4008
dana.lengkeek@bm.com

You May Also Like

Leave a Reply